کبھی ناکامئ تقدير کا ماتم نہيں کرتے
گزر جاتے ہيں راہ غم سے فکر غم نہيں کرتے
جہاں تاريکياں پاتے ہيں خود شمعيں جلاتے ہيں
زمانے سے اندھيروں کی شکايت ھم نہيں کرتے
________________________
جادۂ حق ھے دشوار ، ليکن
گا م زن ہو خدا کے سہارے
بڑھ کے منزل قد م چؤم لے گی
شرط يہ ھے کہ ہمّت نہ ہارے
________________
اب نہ تقرير کی ضرورت ھے
اور نہ تحرير کی ضرورت ھے
آج کے دور کربلائ ميں
عزم شبّير کی ضرورت ھے
__________________
جس کو قسمت پہ بھروسہ ھے وہ نا فہم انساں
خود کو دنيا کی نگا ہوں سے گرا ليتا ھے
اور ھر پيکر ايثار و عمل ہمّت سے
اپنی بگڑی ہوئ تقد ير بنا ليتا ھے
______________________
January 24, 2008 at 6:26 am |
جناب ساحر ھاشمی اديب کے کلام ميں خدا اعتمادی اور خود اعتمادی کا عنصر نماياں ھےـ يہ وہ شاعری ھے جو معاشرہ کو ہمّت اور حوصلہ کے ساتھ حالات کا سامنا کرنے کا پيغام ديتی ہےـ ھميں اس ويب سائٹ پر انکے اور کلام کا بيصبری سے انتظار ہےـــ شازيہ زيدی